بھوپال 15/جولائی (ایس او نیوز/این ڈی ٹی وی): مدھیہ پردیش میں نظام حکومت زعفرانی کارکنوں کے آگے بے بس نظر آرہی ہے. دارالحکومت بھوپال میں پولیس جمعہ کی رات بجرنگ دل کے ایک لیڈر اور کچھ کارکنوں کے سامنے بے بس نظر آئی. شراب پی کر پولیس سے مارپیٹ کے الزام میں پکڑے گئے بجرنگ دل کے لیڈر کملیش ٹھاکر کو چھڑانے کے لئے حامیوں نے پولیس تھانے میں ہنگامہ برپا کر دیا. جب پولیس نے مظاہرین کو روکنا چاہا تو انہوں نے سڑک پر چكّاجام کرنے کی کوشش کی. پولیس کی موجودگی میں مظاہرین نہ صرف ملزم کو چھڑا کر لے گئے، بلکہ خاکی وردی والوں کا منہ چڑھاتے ہوئے اسے کندھے پر بٹھا کر گھمانے بھی لگے.
پولیس ذرائع کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کا صوبائی کنوینر کملیش ٹھاکر نشے میں دُھت، بھوپال کے 10 نمبر مارکیٹ میں شراب پی رہا تھا، دیر رات پولیس نے اس پر اعتراض جتایا تو اس نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ گالی گلوچ شروع کر دی. پولیس اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے ایک پولیس اہلکار کا کالر پکڑ لیا. جب پولیس اسے اپنے ساتھ حبیب گج تھانے لائی تو بجرنگ دل کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے.
40-50 کی تعداد میں آئے بجرنگ دل کے کارکنوں کے سامنے پولیس بے بس کھڑی نظر آئی، اور کارکن اپنے لیڈر کو کندھے پر بٹھا کر چلتے بنے. لیڈر نے خود کو بے قصور بتایا اور الزام لگانے والے کو ہی سامنے لانے کی بات کہی. کملیش ٹھاکر نے کہا کہ مہالکشمی جویلرس میں میں خریداری کرنے آیا تھا، جتنے لوگ پلیٹ فارم پر تھے پولیس اہلکار وہاں سے سب کو اٹھانے لگے. میں نے ان کو کہا کہ میں یہاں خریداری کرنے آیا تھا لیکن انہوں نے مجھے لوک آپ میں بند کر دیا. میں نے پوچھا بھائی کون فریادی ہے جس کی شکایت پر مجھے حراست میں بند کیا گیا، لیکن وہ بتا نہیں پا رہے ہیں.
بجرنگ دل کے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے پولیس کے سینئر افسران بھی حبیب گنج تھانے پہنچ گئے. موقع پر پہنچے سی ایس پی۔ سی ایم دویدی نے پہلے کہا کہ تھوڑی غفلت ہوئی ہے، اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان کا کوئی مجرمانہ کردار ہو گا تو مقدمہ درج کیا جائے گا. مگر دیر رات ملی اطلاع کے مطابق ملزم کے خلاف سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، گالی گلوچ اور مارپیٹ کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.